
ہفتے میں ایک دو دن آنے کا کلچر برداشت نہیں! اساتذہ اور پروفیسرز کی حاضری پر وزیر کا سخت پیغام
ہفتے میں ایک دو دن آنے کا کلچر برداشت نہیں! اساتذہ اور پروفیسرز کی حاضری پر وزیر کا سخت پیغام
اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے سب سے پہلے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور پروفیسرز کو باقاعدہ کلاسز لینی ہوں گی۔ کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ اساتذہ کا ہفتے میں ایک دو دن آنے کا کلچر اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کورونا کے بعد کے دور میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے بہت سے اساتذہ کی باقاعدگی سے نہ آنے کی عادت کو ختم کرکے انہیں کلاس رومز میں مکمل وقت واپس لانا موجودہ حکومت کا بنیادی ہدف ہے، یہ بات ریاست کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر جگن ناتھ چٹوپادھیائے نے واضح کر دی۔ حاضری میں بے ضابطگی کو مالی بے ضابطگی سے تشبیہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا، "اساتذہ کا ہفتے میں ایک دو دن آنے کا کلچر اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اداروں کے سربراہان کی حیثیت سے وائس چانسلرز کو سخت کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر کوئی اساتذہ تنظیم یا پروفیسر فورم رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو براہِ راست کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق، "تعلیم محکمے کا بنیادی کام یہ یقینی بنانا ہے کہ کالج کے اساتذہ باقاعدگی سے کالج جا کر تعلیمی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔” منگل کو نیو ٹاو¿ن کنونشن سینٹر میں قومی تعلیمی پالیسی پر منعقدہ دو روزہ خصوصی ‘چنتن منتھن’ (غور و فکر) اجلاس کے افتتاح کے موقع پر جگن ناتھ نے یہ بات کہی۔ انہوں نے قومی سطح پر ریاست کے تعلیمی اداروں کی شرکت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا، "ہمیں دیکھنا ہوگا کہ قومی سطح پر ہمارے تعلیمی ادارے کہاں کھڑے ہیں۔ ‘میں ہار جاو¿ں گا اس لیے کھیلنے نہیں اترا’ – یہ نہیں کہا جا سکتا۔ کھیلنا ہوگا۔” انہوں نے کالجوں کا معائنہ مزید باقاعدہ کرنے کی بھی بات کہی۔
"ہر یونیورسٹی میں کالج انسپکٹر کا عہدہ ہوتا ہے۔ اس عہدے کا کام کیا ہے؟ باقاعدگی سے کالج جا کر دیکھنا کہ کام کیسے چل رہا ہے۔ پڑھائی ہو رہی ہے یا نہیں، اساتذہ آ رہے ہیں یا نہیں، یہ سب دیکھنا۔” آج اپنی تقریر میں وزیر نے واضح کیا کہ انہیں کچھ اداروں سے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ سی اے جی (محاسب عام) آڈٹ کروانا پڑ رہا ہے۔ جگن ناتھ نے کہا، "یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف چوری کے الزامات اٹھ رہے ہیں۔ اس سے بڑی ذلت، بے عزتی اور توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟


