مالدہ کے سیلاب زدہ بھوتنی جزیرے میں 22 سالہ نوجوان ڈوب گیا، ہلاکتوں کی تعداد دو ہوئی

مالدہ کے سیلاب زدہ بھوتنی جزیرے میں 22 سالہ نوجوان ڈوب گیا، ہلاکتوں کی تعداد دو ہوئی

مالدہ ضلع کے مانک چک بلاک کے سیلاب سے متاثرہ بھوتنی جزیرے میں جمعہ کے روز ایک 22 سالہ نوجوان ڈوب گیا، جس کے بعد گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران سیلاب زدہ علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔اگرچہ ضلع انتظامیہ نے ابھی تک تازہ ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن مقامی لوگوں کے مطابق کھوسبارٹولا گاو¿ں کا 22 سالہ انیکل اسلام سیلاب زدہ علاقے سے جوٹ کے گٹھے نکالنے کی کوشش کے دوران ڈوب گیا۔مانک چک کے دکشن چندی پور کے جوٹ کسان دویجن منڈل بھی 8 ستمبر کو اپنا جوٹ بچانے کی کوشش کے دوران ڈوب گئے تھے۔
اسلام ایک مہاجر مزدور تھا اور سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر تقریباً ایک ہفتہ قبل اپنے گھر واپس آیا تھا۔ جمعہ کی صبح وہ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے جوٹ کے گٹھے نکالنے کے لیے گیا تھا۔جوٹ کے گٹھے سر پر رکھ کر واپس آتے ہوئے اسلام سمیرالدین ٹولہ کے مقام پر ایک لبالب بھرے تالاب میں گر گیا، کیونکہ وہ سیلابی پانی میں ڈوبی ہوئی سڑک کا راستہ تلاش نہیں کر سکا۔ مقامی لوگوں نے پولیس کی مدد سے اسے پانی سے باہر نکالا اور بھوتنی پل کے قریب ایک طبی کیمپ میں لے گئے۔تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
سیلاب کے باعث بھوتنی میں بے گھر ہونے والے لوگوں کو پناہ دینے کے لیے سی پی ایم نے مانک چک میں اپنا دفتر کھول دیا ہے۔
مالدہ میں سی پی ایم کے ضلعی سکریٹریٹ کے رکن دیب جیوتی سنہا نے کہا، ”ریاست کو بڑے پیمانے پر آنے والے اس سیلاب کے متاثرین دونوں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے لیے فی خاندان 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کرنا چاہیے۔“انہوں نے کہا کہ مانک چک میں سی پی ایم کا دفتر سیلاب متاثرین کو سیاسی وابستگی سے قطع نظر پناہ فراہم کرنے کے لیے کھولا گیا ہے۔
سنہا نے مزید کہا، ”ہماری پارٹی کے کارکنان بھی یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ہم انہیں خشک غذائی اشیا فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، ہم سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی سیاسی وابستگی کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص ہمارے دفتر میں پناہ لے سکتا ہے۔“جمعہ کے روز ضلع مجسٹریٹ راجن ویر سنگھ کپور اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوپم سنگھ نے بھوتنی کا دورہ کرکے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کے ساتھ شمالی بنگال کے انسپکٹر جنرل آف پولیس س±کیش جین بھی موجود تھے۔ افسران نے کشتی کے ذریعے علاقے کا دورہ کیا اور لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

Back to top button
Translate »