اس قدیم رئیس گھرانے کی پوجا میں نیتاجی کی والدہ بھی شریک ہوتی تھیں

اس قدیم رئیس گھرانے کی پوجا میں نیتاجی کی والدہ بھی شریک ہوتی تھیں

بنگال کے قدیم رئیس خاندانوں کی درگا پوجا کی ہر پرت میں روایت اور تاریخ کی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ یادوں سے جڑی کئی نامعلوم تاریخیں ان کے ٹھاکوردالان سے آج بھی گویا ہوتی ہیں۔ کولکاتا کا ہاٹ کھولا دت خاندان بھی ایسا ہی ایک قدیم رئیس گھرانہ ہے۔ اس گھرانے کی درگا پوجا میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کی والدہ پربھابتی دیوی بھی شریک ہوا کرتی تھیں۔ یہاں ’بنگا آمار، جَننی آمار‘ گانا نہ گایا جائے تو پوجا ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
شمالی کولکاتا کی نیمتلا اسٹریٹ میں واقع ہاٹ کھولا دت خاندان کا گھر قدیم رئیس گھرانوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ 1794 میں جگت رام دت نے اس گھرانے میں درگا پوجا شروع کی تھی۔ جگت رام دت ایسٹ انڈیا کمپنی کی پٹنہ شاخ کے دیوان تھے اور اسی پوجا کے بانی بھی تھے۔ لیکن انگریزی طرزِ زندگی کے اثرات کے باوجود خاندان کے افراد نے اپنی بنگالی شناخت کو نہیں بھلایا۔ تحریکِ آزادی کے دور میں وہ دیوی درگا کا موازنہ مادرِ وطن سے کرتے تھے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، خاندان کے ایک بزرگ نے مورتی کے وسرجن کے بعد گھر واپس آتے وقت دویجیندرلال رائے کا گیت ’بنگا آمار، جَننی آمار‘ گانے کی روایت شروع کی تھی۔ آج بھی وسرجن کے بعد گھر کے مرد اجتماعی طور پر یہ گیت گاتے ہوئے گھر واپس آتے ہیں۔
جگت رام بابو کی ایک اور شناخت بھی ہے۔ وہ گووند شرن دت کے خاندان کے وارث تھے۔ گووند شرن دت گووندپور گاو¿ں کے معمار تھے۔ یہ نام سوتانوتی اور کولکاتا کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ 1780 میں گووند شرن گووندپور چھوڑ کر ہاٹ کھولا آئے اور یہاں اپنا گھر بنایا۔ تب سے یہ ’ہاٹ کھولا دت خاندان‘ کے نام سے مشہور ہے۔
اٹھارہویں صدی کے اواخر میں آندول کے دت چودھری خاندان کے رام چندر دت نے ہاٹ کھولا علاقے میں سکونت اختیار کی اور درگا اتسو شروع کیا۔ بعد میں رام چندر کے پوتے جگت رام دت نے 78 نیمتلا گھاٹ اسٹریٹ پر ایک محل نما رہائشی مکان تعمیر کیا اور وہاں بھی درگا پوجا شروع کی۔
جگت رام دت کے تعمیر کردہ رہائشی مکان اور ٹھاکوردالان کی تعمیراتی اہمیت بھی کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ دو حصوں پر مشتمل پانچ محرابوں والا یہ دالان کولکاتا کی قدیم عمارتوں میں سے ایک ہے۔ بڑے بڑے ستونوں والے ٹھاکوردالان کی تعمیر کے پیچھے بھی ایک تاریخ ہے۔ یہ ٹھاکوردالان مکمل طور پر مٹی سے بنایا گیا ہے۔ اس زمانے میں کاشی، دوارکا سمیت بھارت کے مختلف مقدس مقامات کی مٹی لاکر اسے تعمیر کیا گیا تھا۔ مختلف تیرتھ مقامات کی مٹی سے بنے اس ٹھاکوردالان نے کولکاتا کی تاریخ میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
اس گھرانے کی درگا مورتی میں بھی کچھ خصوصیات ہیں۔ روایتی بنگالی طرز کی مورتی کو ’ڈاک کا ساج‘ پہنایا جاتا ہے۔ شیر گھوڑے کی شکل کا ہے۔ مٹھ چوری طرز کی چال پر مٹی کے زیورات بنائے جاتے ہیں، جن پر کرشن لیلا اور چنڈی کی کہانیاں نقش کی جاتی ہیں۔
رسومات اور روایات میں بھی کچھ انفرادیت ہے۔ مثال کے طور پر پوجا میں نَیویدیا سجانے سے لے کر پوجا کے تمام کام برہمن ہی انجام دیتے ہیں۔ پوجا میں اناج کا بھوگ نہیں لگایا جاتا، تاہم مختلف قسم کی مٹھائیاں اور تلی ہوئی اشیا بطور بھوگ پیش کی جاتی ہیں۔ پوجا کے بھوگ میں آلو استعمال نہیں کیا جاتا۔
قدیم روایت کے مطابق یہ پوجا خاندان کے ک±ل گرو کے نام پر وقف کی جاتی تھی۔ نویں کے دن کھیر سے بنی گڑیا کی قربانی دی جاتی تھی۔ خاندان کے کسی بھی فرد کو قربانی دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ قربانی کی جگہ کو کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ماضی کی چمک دمک اور شان و شوکت تو باقی نہیں رہی، لیکن اس پوجا کی شان، وقار اور روایت کی جھلک آج بھی ذرا بھی ماند نہیں پڑی ہے۔

Back to top button
Translate »