
لفافے‘ کو لے کر کھینچا تانی جاری، انتخابی نشان اپنے پاس رکھنے کے لیے نوشاد کی ہائی کورٹ میں عرضی
لفافے‘ کو لے کر کھینچا تانی جاری، انتخابی نشان اپنے پاس رکھنے کے لیے نوشاد کی ہائی کورٹ میں عرضی
’لفافے‘ کو لے کر کھینچا تانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی! متبادل انتخابی نشان ’الماری‘ ملنے کے باوجود نوشاد صدیقی کی آئی ایس ایف ’لفافہ‘ نشان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہی پارٹی کے واحد رکن اسمبلی نے الیکشن کمیشن کے اس انتخابی نشان سے متعلق فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے خط لکھا تھا۔ اب نوشاد صدیقی اور ان کے ساتھی اس معاملے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے جا رہے ہیں۔ خبر ہے کہ پیر کے روز ہی مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، یہ مقدمہ جسٹس کرشنا راو¿ کی عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 6 اکتوبر کو دو حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل انتخابی نشان واپس حاصل کرنے میں انہیں قانون سے کتنی مدد ملتی ہے۔
دراصل انتخابی نشان کو لے کر جو جنگ اب تک ترنمول کانگریس کے اندر جاری تھی، پارٹی کی تقسیم کے بعد اس کی تپش اب باہر بھی محسوس ہونے لگی ہے۔ گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس اور ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس الگ الگ ہونے کے بعد دونوں کو نئے انتخابی نشان دیے گئے۔ ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس کو ’لفافہ‘ انتخابی نشان دیا گیا، جو اب تک انڈین سیکولر فرنٹ کے پاس تھا۔ آئی ایس ایف نے 2021 سے اسی نشان پر انتخابات لڑے ہیں۔
آئی ایس ایف کے رجسٹرڈ اسی انتخابی نشان کو کمیشن نے ریتبرت بندیوپادھیائے کی پارٹی کو کیسے دے دیا، اس پر پارٹی کے واحد رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے سوال اٹھایا تھا۔ اسی روز انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اس معاملے میں کمیشن کو قانونی نوٹس بھیجیں گے۔ تاہم بعد میں دونوں سیاسی جماعتوں کے ایک ہی انتخابی نشان کے باعث پیدا ہونے والی الجھن کو ختم کرنے کے لیے کمیشن نے آئی ایس ایف کو ’الماری‘ کا انتخابی نشان دے دیا۔
لیکن اس کے باوجود نوشاد صدیقی ’لفافہ‘ انتخابی نشان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اب وہ اسے اپنے پاس برقرار رکھنے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔


