
بچے کی حفاظت پر سوال کرنے والے والد کی پل کار ڈرائیور نے ناک پھوڑ دی، ہگلی کے ہندموٹر میں کشیدگی
بچے کی حفاظت پر سوال کرنے والے والد کی پل کار ڈرائیور نے ناک پھوڑ دی، ہگلی کے ہندموٹر میں کشیدگی
بچے کی حفاظت کے بارے میں سوال کرنے پر پل کار ڈرائیور نے ایک والد کی ناک پھوڑ دی۔ ایک اور شخص کے سر پر بھی چوٹ لگی۔ اس واقعے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ ہگلی کے ہندموٹر میں پ±ل کار ڈرائیور کی مبینہ داداگیری کا الزام لگا ہے۔ واقعے کے سلسلے میں نوجوان نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ اترپارا تھانے کی پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔ زخمی نوجوان نے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر پ±ل کاروں پر نگرانی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہندموٹر کے نندَن کانن کے رہنے والے بپلب کمار بسواس کا تقریباً آٹھ سالہ بیٹا مقامی انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتا ہے۔ وہ پ±ل کار سے اسکول آتا جاتا ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ کئی دنوں سے گاڑی میں کچھ دوسرے طلبہ ان کے بچے کو مارپیٹ کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں پیر کو بپلب نے پل کار کے ڈرائیور سے شکایت کی۔ ڈرائیور نے کہا کہ یہ ذمہ داری اس کی نہیں ہے۔ اسی بات کو لے کر ڈرائیور اور بپلب کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔ بعد میں مقامی لوگوں کی مداخلت سے معاملہ وہیں ختم ہوگیا۔
اصل ہنگامہ شام کے بعد شروع ہوا۔ الزام ہے کہ پیر کی رات اسی پ±ل کار کے مالک اور ڈرائیور سمیت 10 سے 15 افراد نے بپلب پر حملہ کر دیا۔ مقامی نیو بوائز کلب کے سامنے بپلب کمار بسواس اور ان کے دوستوں پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اچانک ہوئے حملے میں بپلب کی ناک پر چوٹ لگی۔ ہیمَن داس نامی ایک اور نوجوان کے سر پر بھی چوٹ آئی۔ حملہ روکنے کی کوشش میں کئی مقامی باشندے زخمی ہوئے۔ علاج کے لیے انہیں اترپارا اسٹیٹ جنرل اسپتال لے جایا گیا۔
علاج کے بعد بپلب نے اترپارا تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی۔ انہوں نے کہا، ”معمولی بات پر اس طرح کے حملے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔“ اس کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پ±ل کاریں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے چل رہی ہیں۔ ان کے مطابق گاڑیوں کے پاس رجسٹریشن، انشورنس اور پولیوشن سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہیں۔ اس معاملے میں بھی انتظامیہ کو توجہ دینی چاہیے۔
شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔


