
خودکشی کے سوا کوئی راستہ نہیں! ’برہنہ پریڈ‘ کے بعد سماجی رسوائی کے خوف سے بہالا کا خاندان ’گھر میں قید‘
خودکشی کے سوا کوئی راستہ نہیں! ’برہنہ پریڈ‘ کے بعد سماجی رسوائی کے خوف سے بہالا کا خاندان ’گھر میں قید‘

”مجھے برہنہ کرکے سڑک پر گھمایا گیا، لیکن کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ شرم، ذلت اور خوف کی وجہ سے میں خودکشی کرنے جا رہا تھا۔ مجھے، میرے بیٹے اور اس کے دوست کو رسوائی سے بچانے والے بائیک مکینک سجائے ہلدار تھے۔“ یہ کہنا ہے سرشونا واقعے سے متاثرہ نوجوان کے والد کا۔ واقعے کو کئی دن گزر چکے ہیں، لیکن وہ اب بھی اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ شرم اور خوف کے باعث گھر کے اندر ہی سمٹے ہوئے ہیں!
متاثرہ نوجوان اور اس کے والد کا دعویٰ ہے کہ ملزمین میں سے تین سے چار افراد اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ کہیں دوبارہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آجائے۔ اس کے ساتھ سماجی رسوائی کا خوف بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام پیش آنے والے واقعے کو یاد کرکے انہیں اپنے علاقے سبز پارک سے کھدی رام پلی تک جانے میں بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ وہ تصور بھی نہیں کر پا رہے ہیں کہ ایک مہذب معاشرے میں ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے۔
گزشتہ اتوار کی شام سرشونا کے کھدی رام پلی میں نہر کے کنارے ایک نابالغ لڑکی کو بوسہ دینے کے ’جرم‘ میں مبینہ طور پر نوجوان، اس کے والد اور دوست کو محلے کی سڑک پر برہنہ کرکے گھمایا گیا۔ اس واقعے نے ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا ہے۔
محلے کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نابالغ لڑکی کے ’بااثر خاندان‘ کے خوف سے وہ احتجاج نہیں کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے مذکورہ شخص کو دیکھا تو انہیں لگا کہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہے۔ لیکن جب انہوں نے پیچھے دو نوجوانوں کو بھی برہنہ حالت میں آتے دیکھا تو انہیں حقیقت کا احساس ہوا۔
تاہم، کھدی رام پلی سے سبز پارک کی طرف جانے کے لیے موڑ مڑتے ہی بائیک مکینک سجائے ہلدار کی نظر اس واقعے پر پڑی۔ وہ اور اس وقت وہاں کام کر رہے ان کے ساتھی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔
سجائے ہلدار نے بتایا کہ نوجوان کے والد ابتدا میں تیزی سے چلتے ہوئے ان کے گیراج کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ تینوں افراد کی ویڈیو بناتے ہوئے ساتھ چل رہے ایک نوجوان نے سجائے اور ان کے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا، ”مزے دار ریلی نکل رہی ہے، تم لوگ بھی دیکھو۔“
کئی لوگ ویڈیو بنا رہے تھے، لیکن کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ کچھ لوگ ایک دکان کے سامنے کھڑے ہوکر حیرت سے اس ’برہنہ پریڈ‘ کو دیکھتے رہے، لیکن کسی نے بھی متاثرین کی شرم گاہیں ڈھانپنے کی کوشش نہیں کی۔سجائے ہی نوجوان اور اس کے دوست کو کھینچ کر اپنے گیراج کے اندر لے آئے۔ اس وقت بھی نوجوان کے والد نہر کے کنارے برہنہ حالت میں چل رہے تھے۔ سجائے نے انہیں آواز دے کر بلایا، لیکن ابتدا میں انہیں لگا کہ کوئی ان کے ساتھ مذاق کرنے کے لیے بلا رہا ہے۔ اس کے بعد سجائے اور ان کے ساتھی انہیں پکڑ کر گیراج کے اندر لے آئے۔


