ایس آئی آرکے نام پر ادیبوں اور دانشوروں کی ہراساں کیا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

ایس آئی آرکے نام پر ادیبوں اور دانشوروں کی ہراساں کیا جا رہا ہے: ممتا بنرجی

! کتاب میلے کے اسٹیج سے وزیر اعلیٰ نے سب کو احتجاج کی پکاردینے کا اعلان کیا
کولکتہ کے 49 ویں بین الاقوامی کتاب میلے کے افتتاحی اسٹیج سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر (SIR) کے عمل کے دوران ہونے والی عوامی پریشانیوں اور ہراسانی کے خلاف ایک بار پھر سخت آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے ‘لاجیکل ڈسکرپنسی’ (منطقی تضاد) کے نام پر لوگوں کو بلانے اور ان کی تذلیل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو متحد ہو کر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بنگال میں جاری ایس آئی آر کے عمل کے خوف اور ذہنی تناو¿ کی وجہ سے اب تک 110 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سماعت (Hearing) کے نام پر پانچ پانچ، چھ چھ گھنٹے لائنوں میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے نوبل انعام یافتہ امرتیا سین اور معروف شاعر جوئے گوسوامی کو ایس آئی آر نوٹس بھیجے جانے پر الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ امرتیا سین جیسے شخص سے ان کے والدین کی عمر کے فرق کے بارے میں پوچھنا انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں لوگ ‘چٹرجی’ کو ‘چٹوپادھیائے’ اور ‘مکھرجی’ کو ‘مکھوپادھیائے’ لکھتے ہیں، لیکن اسے بھی غلطی قرار دے کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ افسران پوچھ رہے ہیں کہ ایک ہی والدین کے پانچ بچے کیسے ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ پرانے وقتوں میں ‘ہم دو ہمارے دو’ کا اصول نہیں تھا، لوگوں کے بڑے خاندان ہوتے تھے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ صرف عام آدمی ہی نہیں بلکہ نامور ڈاکٹروں، انجینئروں اور ادیبوں کو بھی بلا کر ان کی توہین کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کتاب میلے کے اسٹیج کو احتجاج کا پلیٹ فارم بناتے ہوئے کہا کہ بنگال کی روایت اور آزادی کی تحریک میں اس کے تعاون کو بھول کر لوگوں کو جس طرح ذلیل کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

Back to top button
Translate »