بقایا ڈی اے کےلئے سنگرامی منچ نے الیکشن کمیشن سے مداخلت کی اپیل کی
بقایا ڈی اے کےلئے سنگرامی منچ نے الیکشن کمیشن سے مداخلت کی اپیل کی
ریاستی سرکاری ملازمین کے بقایا 4 فیصد مہنگائی الاو¿نس (DA) سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے سنگرامی جوتھو منچ نے براہِ راست الیکشن کمیشن سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک تحریری عرضداشت (ڈیپوٹیشن) جمع کرائی گئی ہے۔
مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں جس 4 فیصد ڈی اے کا اعلان کیا گیا تھا، اسے اپریل 2026 سے نافذ ہونا تھا۔ لیکن مئی کا مہینہ قریب ہونے کے باوجود ابھی تک کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی تنخواہ کے بلوں میں اس کا اندراج ہوا ہے۔تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ریاستی حکومت اور حکمراں جماعت یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ڈی اے نہیں دیا جا رہا۔ تاہم، منچ کا موقف ہے کہ اس ڈی اے کا اعلان انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے پہلے ہوا تھا، اس لیے ضابطہ اخلاق (Model Code of Conduct) اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر سے ملاقات کے دوران تنظیم نے درخواست کی ہے کہ کمیشن فوری طور پر اس معاملے میں واضح ہدایات جاری کرے اور ریاستی محکمہ خزانہ کو ضروری منظوری دے دے۔
تنظیم نے اپنے دعوو¿ں کی تائید میں اخباری تراشے، وزیر اعلیٰ اور سرکاری نمائندوں کے بیانات کے اسکرین شاٹس اور دیگر ضروری دستاویزات کمیشن کے پاس جمع کرائے ہیں۔انتخابات کے اس ماحول میں سرکاری ملازمین کے واجب الادا ڈی اے کے معاملے نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر کیا فیصلہ لیتا ہے۔

