شوبھندو کو دیکھ کر جب لوگوںنے چور چور کے نعرے لگائے تو انہوں فوراً فون کر کے سنٹرل فورس کو بلا لیا
شوبھندو کو دیکھ کر جب لوگوںنے چور چور کے نعرے لگائے تو انہوں فوراً فون کر کے سنٹرل فورس کو بلا لیا
دوپہر کے وقت اپوزیشن لیڈر وزیر اعلیٰ کے پولنگ اسٹیشن ‘مترا انسٹی ٹیوشن’ پہنچے۔ وہاں انہیں بوتھ کے اندر کچھ ووٹروں سے بات چیت کرتے دیکھا گیا۔ وہاں سے جب وہ بھوانی پور کے مکتو دل موڑ کی طرف جا رہے تھے، تو پٹوا پاڑہ کی سمت سے ترنمول کانگریس کے حامیوں کا ایک گروپ شبھیندو کے قافلے کی طرف لپکا۔ انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی: "چور، چور، چورٹا، شیشر بابو کا بیٹا!” جواب میں شبھیندو کے ساتھ موجود بی جے پی کارکنوں نے بھی جوابی نعرے لگائے۔ نعروں کی اس جنگ اور دونوں طرف کے کارکنوں کے جارحانہ مزاج کو دیکھ کر شبھیندو نے اپنی گاڑی روکی اور الیکشن کمیشن کو فون کر کے علاقے میں فوری طور پر فورس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں مرکزی فورسز کے جوان وہاں پہنچ گئے۔ شبھیندو انہیں ساتھ لے کر ترنمول کارکنوں کی طرف بڑھے اور دوڑتے ہوئے "ہندو-ہندو بھائی-بھائی” کے نعرے لگانے لگے۔
بعد ازاں بی جے پی نے الزام لگایا کہ وارڈ نمبر 73 کی کونسلر اور وزیر اعلیٰ کی بھابی کاجری بنرجی کی ہدایت پر مقامی ترنمول کارکن شبھیندو کے قافلے کی طرف بڑھے تھے۔ فورسز نے آکر صورتحال کو سنبھالا۔ اس کے بعد شبھیندو وارڈ نمبر 74 میں انتخابی صورتحال کا جائزہ لینے گئے۔ علی پور کے اس دفتر میں وار روم کے اندر جا کر انہوں نے ذمہ دار کارکنوں کے ساتھ تنہائی میں کافی دیر تک بات چیت کی۔
وار روم سے نکل کر وارڈ نمبر 70 کے ایک بوتھ پر جاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اچانک ترنمول کے ایک عارضی کیمپ میں داخل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے ایک بزرگ کارکن سے ہاتھ ملایا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ پاس ہی موجود ترنمول کی ایک خاتون کارکن کو دیکھ کر انہوں نے پرنام کیا اور ان سے بھی حال احوال پوچھا۔ اسی کیمپ میں ترنمول کے دو نوجوان کارکنوں کی درخواست پر انہوں نے ان کے ہاتھ سے سافٹ ڈرنک کی بوتل لی اور ایک گھونٹ پیا۔ اس کے بعد وہ وارڈ نمبر 71 میں بی جے پی کے عارضی کیمپ میں جا کر بیٹھے اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی۔ وہاں بی جے پی کارکنوں کی فرمائش پر انہوں نے دوبارہ سافٹ ڈرنک پی کر گلا تر کیا۔ اس کے بعد وہ وارڈ نمبر 77 اور 82 کے چند پولنگ مراکز پر گئے، لیکن کسی اور بوتھ کے اندر داخل نہیں ہوئے۔ آخر میں انہوں نے وارڈ نمبر 74 میں اپنے انتخابی دفتر میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھوانی پور کے 35 ہزار اقلیتی ووٹروں میں سے 28 ہزار نے ووٹ ڈالے ہیں، اس لیے وارڈ نمبر 77 سے رخصت پذیر وزیر اعلیٰ جس برتری کی امید کر رہی ہیں، وہ کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔
ووٹنگ کے دوران ہی شبھیندو نے کہا تھا کہ اگر بھوانی پور میں 80 فیصد ووٹ پڑے تو وہ جیت جائیں گے، 90 فیصد ووٹنگ کی صورت میں بڑی برتری سے جیتیں گے، اور اگر 50 فیصد ووٹ پڑے تو سخت مقابلہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، شام 6 بجے تک بھوانی پور میں ساڑھے 86 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔

