ایک مہینے کے بعد جے پرکاش مجمدار کو ضمانت ملی

ایک مہینے کے بعد جے پرکاش مجمدار کو ضمانت ملی

کلکتہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ترنمول لیڈر جے پرکاشمجمدار کو۔ مکان قبضہ کے مقدمے میں انہیں ضمانت ملی۔ عدالت نے شرائط عائد کر دی ہیں۔ تفتیش میں تعاون کے علاوہ بیرون ملک تو دور، شمالی24 پرگنہ اور کلکتہ سے باہر نہیں جا سکیں گے جے پرکاش۔ انہی شرائط پر کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس اجے کمار مکھرجی نے انہیں ضمانت دی ہے۔
مکان قبضہ کے الزام میں ترنمول لیڈر جے پرکاش مجمدار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 3جون کو دوپہر میں سالٹ لیک علاقے سے انہیں پہلے بدھان نگر نارتھ تھانے کی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف 12سال سے مکان پر قبضہ رکھنے کا الزام تھا۔ کرایہ مانگنے پر مکان مالک کو دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اس الزام پر جے پرکاش کے خلاف علاقے کے رہائشیوں نے احتجاج کیا۔ اس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ کر جے پرکاش کو حراست میں لے لیا۔ مکان مالک کی شکایت کی بنیاد پر بعد میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ترنمول لیڈر کو لے کر پولیس سولٹ لیک کے اس مکان پر تلاشی کے لیے بھی گئی تھی۔ وین سے اترتے ہی جے پرکاش کو ہجوم نے گھیر لیا۔ انہیں نشانہ بنا کر انڈے پھینکے گئے۔ گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست دے کر ترنمول لیڈر نے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔
لیکن وہاں بھی پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ جسٹس تیرتھنکر گھوش کی عدالت میں سماعت ہونی تھی۔ لیکن آخری لمحات میں ذاتی وجوہات کا حوالہ دے کر جسٹس اس کیس سے علیحدہ ہو گئے۔ پھر یہ کیس جسٹس اجے کمار مکھرجی کی عدالت میں چلا گیا۔ بدھ کو اس کیس کی سماعت ہوئی۔ وہاں جسٹس نے انہیں ضمانت تو منظور کی لیکن متعدد شرائط عائد کر دیں۔
Back to top button
Translate »