ایس آئی ٹی کی نظر دیب راج کی گلوبل نامی تعمیری کمپنی پر
ایس آئی ٹی کی نظر دیب راج کی گلوبل نامی تعمیری کمپنی پر

تفتیشی ادارہ ایس آئی ٹی کو شبہ ہے کہ دیبراج چکرورتی نے بنیادی طور پر ‘ڈی سی گلوبل نامی ایک تعمیراتی کمپنی کے ذریعے بلیک منی کی لین دین کی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس لین دین کے راستے کو تلاش کرنے کی کوشش کیسے جاری ہے۔
ایس آئی ٹی کی ابتدائی تفتیش میں دیبراج کے ساتھ منسلک ایک بڑے مجرمانہ گروہ کا سراغ ملا ہے۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس بدعنوانی میں کم از کم 30 عوامی نمائندے ملوث ہیں۔ ان ہی 30 افراد پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے، اس لیے انہیں ‘اسپیشل 30’ کے طور پر حوالہ دیا جا رہا ہے۔ اس دوران دیبراج کے ‘قریبی’ چار افراد کو طلب کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بہت سے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔’ڈی سی گلوبل’ کمپنی 2015 میں کھولی گئی تھی۔ کاغذات پر یہ ایک تعمیراتی کمپنی ہے، لیکن تفتیش میں کچھ چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں:
کمپنی کا کوئی علیحدہ دفتر نہیں تھا۔ کمپنی کے پتے کے طور پر دیبراج چکرورتی کے گھر کا پتہ ہی استعمال کیا جاتا تھا۔’لکڑی کی گڑیا’ مالک: کمپنی کے مالک کے طور پر دیبراج کے والد ترون کمار چکرورتی کا نام تھا۔ تاہم تفتیش کاروں کے مطابق، وہ محض ایک ‘لکڑی کی گڑیا’ تھے—یعنی، وہ خود کوئی فیصلہ نہیں لیتے تھے، تمام کام دیبراج کے کہنے پر چلتے تھے۔ اسی کمپنی کے ذریعے دیبراج مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی زمین کی خرید و فروخت، تعمیراتی معاہدے اور جائیداد کی منتقلی کے کام کرتے تھے۔ بی جے پی کے ایم ایل اے ترون جیوتی تیواری نے جو 1300 کروڑ روپے کی بدعنوانی کا الزام لگایا ہے، ایس آئی ٹی ممکنہ طور پر اس رقم کی لین دین کا راستہ بھی اسی کمپنی کے ذریعے تلاش کر رہی ہے۔

