
سرکاری اسپتالوں میں بریسٹ فیڈنگ کارنر بنایا جائے گا
سرکاری اسپتالوں میں بریسٹ فیڈنگ کارنر بنایا جائے گا
بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر دودھ پلانا شروع کر دینا چاہیے۔ مگر سرکاری ہسپتالوں میں کافی پردہ (پرائیویسی) نہیں ہے۔ اب پورے بنگال میں مزدہ وارڈز میں سینکڑوں بریسٹ فیڈنگ کارنر بنائے جائیں گے۔ بدھ کو کولکتہ میڈیکل کالج میں ‘عالمی دودھ پلانے کا ہفتہ’ منانے کی تقریب میں یہی پیغام دیا صحت وزیر ڈاکٹر شرادوت مکھرجی نے۔
بنگال اوبسٹیٹرک اینڈ گائناکولوجیکل سوسائٹی (بی او جی ایس) اور انڈین سوسائٹی آف پیرینیٹولوجی اینڈ ریپروڈکٹیو بائیولوجی نے مشترکہ طور پر کولکتہ میڈیکل کالج کے ساتھ ‘دودھ پلانے کا ہفتہ’ منانے کی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس تقریب میں ماہر امراض نسواں ڈاکٹر سیونتی گوسوامی نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بچے کو ماں کے پاس دینا چاہیے۔ بچے کے چھونے سے ماں کے دودھ کا اخراج تیزی سے شروع ہوتا ہے۔ اس وقت ماں کے چھاتی سے جو ہلکا پیلا دودھ خارج ہوتا ہے (کلوسٹرم)، اس میں مختلف قسم کے اینٹی باڈیز ہوتے ہیں۔ یہ نوزائیدہ کو زندگی بھر بیماریوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ مسئلہ یہیں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے مزدہ (پرسوتی) شعبہ میں اتنا ‘پردہ’ نہیں ہے۔ صفائی کرنے والے عملے، مرد نرسوں کے سامنے ہی ماو¿ں کو دودھ پلانا پڑتا ہے۔


