‘مالی امداد نہیں، باپ کے نام پر اچھا اسکول بنائے سرکار’، چاہ رہے ہیں یتیم حافظ

'مالی امداد نہیں، باپ کے نام پر اچھا اسکول بنائے سرکار'، چاہ رہے ہیں یتیم حافظ

تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے بڑے سماجی مسئلے پر کام کر رہے تھے۔ یہ کام ان کی زندگی میں اتنا بڑا نقصان لائے گا، کس نے سوچا تھا؟ نہیں سوچا تھا بانکڑا (Bankura) کے نوجوان شیخ عبدالحافظ نے بھی۔ لیکن ان کے کام کی وجہ سے حملہ ہوا اور باپ، شیخ مافک کو جان دینی پڑی! کچھ دنوں پہلے انداس کے کوریشونڈا گاو¿ں میں حافظ کے گھر پر حملہ آوروں کے حملے میں ڈھال بن کر بیٹے کو بچانے میں تو کامیاب ہوئے، لیکن پچاس سال سے زائد مافک خود کو نہ بچا سکے۔ مار پیٹ کی وجہ سے اتوار کی صبح بردھمان ہسپتال میں ان کی موت ہوگئی۔ حال ہی میں یتیم ہونے والا بیٹا لیکن اس کے باوجود اپنے نظریے کو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولا۔ غریب خاندان کے سرپرست کی موت کے بعد گھر چلانے کے لیے بہت سے لوگوں نے حافظ کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ کریں۔ لیکن اس مشورے کو رد کرتے ہوئے نوجوان کہہ رہا ہے، ”ہمیں مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ باپ کے نام پر بنگال کے کسی بھی جگہ ایک عالمی معیار کا اسکول بنے، حکومت سے یہی چاہتے ہیں۔
باپ کے غم میں حافظ کی یہ پختہ آواز کی خواہش اب سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ ہر کسی کی زبان پر ان کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ حافظ کی تعریف کرتے ہوئے بہت سے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ پیر کو حافظ کے انداس کے گھر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے ترجمان آشوتوش رانکا سمیت کئی افراد گئے تھے۔ کیونکہ، ‘کاکروچ’ کے تحریک میں شمولیت اختیار کر کے ملک کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے لڑے تھے حافظ۔ بعد میں اپنے گاو¿ں واپس آ کر بھی وہ لڑائی جاری رکھے۔ علاقے کے پرائمری اسکول کی خراب حالت دیکھ کر پرنسپل اور انتظامی سطح پر رابطہ کر کے اسے درست کرنے کی کوشش کی تھی انداس کے طالب علم نے۔ اس نیک کوشش کا بدلہ انہیں باپ کو کھو کر چکانا پڑا۔ پیر کو ‘کاکروچ’ نمائندوں کے ساتھ ساتھ حافظ کے گھر سی پی ایم کے ستاروپ گھوش، ایس ایف آئی کے سابق آل انڈیا جنرل سکریٹری مﺅکھ بشواس وغیرہ گئے۔ انہوں نے ہی حافظ کو مشورہ دیا کہ حکومت پر مالی امداد کے لیے دباو¿ ڈالیں۔

Back to top button
Translate »