
تاراپیٹھ میں حفاظتی انتظامات نہیں ہونے کی وجہ سے کئی ہوٹل بند ہونے کے قریب
تاراپیٹھ میں حفاظتی انتظامات نہیں ہونے کی وجہ سے کئی ہوٹل بند ہونے کے قریب
تاراپیٹھ کے بیدیسی ہوٹل میں زبردست آگ لگنے سے نو افراد (جن میں سے پانچ میگھالیہ سے تھے) ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ آگ ایک ایئر کنڈیشنر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ تمام باہر نکلنے کے دروازے باہر سے بند پائے گئے، جس کی وجہ سے زیادہ تر متاثرین سیڑھیوں پر پھنس گئے اور جل گئے۔ ہوٹل کے عملے یا مالک نے نہیں بلکہ ایک راہگیر نے پولیس کو آگ کی اطلاع دی۔مالک پربیر پال اور اس کے بیٹے کلیان پال کو غفلت اور قتل سے کم درجے کا قتل سمیت متعدد الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں 7 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے 15 مزید ہوٹلوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا کیونکہ انہوں نے بارہا انتباہ کے باوجود فائر، بجلی، آلودگی اور دیگر حفاظتی معیارات پر عمل نہیں کیا تھا۔ایک کمیٹی (جس کی سربراہی ایس ڈی او رتھوڈ کر رہے ہیں) فائر آڈٹ کرے گی اور ہوٹل مالکان و عملے کو آگ سے بچاو¿ اور برقی حادثات کی روک تھام کی تربیت فراہم کرے گی۔سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ نے قریبی تالاب میں ممکنہ لاپتہ متاثرین کی تلاش کی، لیکن چار گھنٹے کی کارروائی کے بعد کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔شوبھندو ادھیکاری مغربی بنگال کے اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے رکن ہیں۔مغربی بنگال کی موجودہ چیف منسٹر متابنرجی (ترنمول کانگریس) ہیں۔مضمون میں بعد میں "ہمارے وزیر اعلیٰ” کا ذکر بغیر نام کے کیا گیا ہے، لیکن ابتدائی نسبت غلط ہے۔ اگر آپ اس متن کو کسی رپورٹ یا اسائنمنٹ کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو براہِ کرم اسے ضرور درست کریں تاکہ غلط معلومات سے بچا جا سکے۔بی جے پی (وزیر جگن ناتھ چٹوپادھیائے کے ذریعے) نے اس سانحے کو ترنمول کانگریس حکومت پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا، اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے پچھلے 15 سالوں میں تاراپیٹھ میں "بے قابو غیر قانونی تعمیرات” کی اجازت دی۔تاہم، انتظامیہ ایک سخت موقف اختیار کر رہی ہے اور اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ "حفاظت سے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا”۔


