قانون میں پلازما فروخت کی کوئی شق ہی نہیں! غیر سائنسی ‘کیمپ کھاٹ’ پر خون عطیہ کی کڑی تنقید

قانون میں پلازما فروخت کی کوئی شق ہی نہیں! غیر سائنسی 'کیمپ کھاٹ' پر خون عطیہ کی کڑی تنقید

قانون میں پلازما فروخت کرنے کی کوئی شق ہی نہیں ہے! 2015میں نیشنل بلڈ ٹرانسفیوڑن کونسل کے اجلاس میں منظوری دی گئی تھی کہ فی لیٹر پلازما کے بدلے قیمت (فروخت کی قیمت نہیں)1600ٹیکہ ہے۔ پلازما کے بدلے موصول ہونے والی اس رقم کو بلڈ بینک کیسے استعمال کرے گا، یہ متعلقہ ریاست کی خون کی منتقلی کونسل طے کرے گی۔ بنیادی طور پر اس رقم سے غریب مریضوں کے علاج کے لیے ہم قیمت پلازما پر مبنی ادویات خریدی جا سکتی ہیں۔
فیڈریشن آف انڈین بلڈ ڈونر آرگنائزیشن کے قومی صدر بشوروپ بشواس نے بتایا کہ نیشنل بلڈ ٹرانسفیوڑن کونسل کے اس اجلاس کا فیصلہ ابھی تک تمام سطحوں پر تسلیم شدہ ہے۔ یعنی کسی بھی طرح پلازما فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ اس رقم سے بلڈ بینک کی صلاحیت بڑھانے کا سامان خریدا جا سکتا ہے۔ جیسے؟ خون عطیہ کرنے کے لیے خصوصی کھاٹ۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک صحت افسر نے بتایا کہ خون عطیہ کرنے والے کیمپوں میں یہی سامان موجود نہیں تھا۔ پچھلے ڈیڑھ دہائی سے متعدد خون عطیہ کرنے والے کیمپوں میں لاپرواہی سے نیچی کیمپ کھاٹ پر لیٹ کر ہی خون عطیہ کرنے والوں نے خون دیا ہے۔ جسے ماہرین انتہائی غیر سائنسی قرار دے رہے ہیں۔ اصول کے مطابق خون دینے والے کے بلڈ بیگ کا فاصلہ ڈیڑھ سے پونے دو فٹ ہونا چاہیے۔ لیکن نیچی کیمپ کھاٹ تو زمین سے ڈیڑھ فٹ اونچی ہوتی ہے۔ اس لیے خون کا بیگ زمین پر پڑا دیکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف خون عطیہ کرنے کی خصوصی کھاٹ بلڈ بینک میں نظر آتی ہے۔ لیکن وہاں کتنے لوگ ہی خون دینے جاتے ہیں۔

Back to top button
Translate »