ڈاکٹروں کو بھی پیغام، شروع میں ہی سخت خوراک نہ دیں

ڈاکٹروں کو بھی پیغام، شروع میں ہی سخت خوراک نہ دیں

سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ رجسٹرڈ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر اینٹی بایوٹک اور درد کش ادویات فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ دائمی گردے کی بیماری کے خطرے سے بچنے کے لیے سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے سخت قدم اٹھایا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 1940 کے ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ اور ڈرگس رولز 1945 کے قوانین کے مطابق اینٹی بایوٹک صرف رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر ہی نسخے میں تجویز کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اینٹی بایوٹک اور پین کلر نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیے جا سکتے۔ یہ انتباہ مغربی بنگال ڈرگ کنٹرول بورڈ کو بھی بھیجا گیا ہے۔
عام لوگوں کے لیے ڈرگ کنٹرول بورڈ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام وائرل بخار میں اینٹی بایوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بخار ہوتے ہی خود سے میڈیکل اسٹور سے دوا خرید کر نہ کھائیں۔ ڈاکٹروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ علاج کے آغاز میں ہی سخت خوراک والی اینٹی بایوٹک استعمال نہ کی جائے۔
قابل ذکر ہے کہ بخار، نزلہ اور کھانسی ہوتے ہی عام لوگوں میں اینٹی بایوٹک خرید کر کھانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سے صحت یابی کے بجائے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر بخار اور نزلہ زکام سے راحت مل جاتی ہے، لیکن دراصل جسم کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اینٹی بایوٹک استعمال کرنے سے جسم میں اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ضرورت کے وقت اینٹی بایوٹک ادویات کام کرنا بند کر دیتی ہیں۔ ان تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھتے ہوئے سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔اب اینٹی بایوٹک ادویات کو دھڑا دھڑ فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔

Back to top button
Translate »