مالدہ میں چارپائی پر مریض کو لے جانے کا ویڈیو وائرل، سڑک نہ ہونے کی شرمناک حقیقت سامنے آئی

مالدہ میں چارپائی پر مریض کو لے جانے کا ویڈیو وائرل، سڑک نہ ہونے کی شرمناک حقیقت سامنے آئی

مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے ہریش چندرپور-1 بلاک کے بلاک پاڑہ علاقے میں ایک مریض کو ایسی جگہ سے چارپائی پر لے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جہاں سے موٹر گاڑیوں کا گزرنا ممکن نہیں ہے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں کی مشکلات کے تئیں انتظامیہ کی مبینہ بے حسی پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
مقامی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر رہنے والے بلاک پاڑہ کے باشندے گزشتہ تین دہائیوں سے مناسب رابطہ سڑک کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ اس ویڈیو نے علاقے میں آمدورفت کی سنگین مشکلات کو اجاگر کیا ہے، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔
بلاک پاڑہ کے ایک رہائشی نے بتایا، ”شدید بیمار مریضوں کو اکثر پڑوسی عارضی چارپائیوں پر اٹھا کر مرکزی سڑک تک لے جاتے ہیں، تاکہ وہاں سے انہیں طبی امداد فراہم کی جا سکے۔“
ہریش چندرپور-1 کے بی ڈی او دفتر کے بالکل سامنے واقع بلاک پاڑہ میں تقریباً 100 خاندان رہتے ہیں۔
بلاک ہیڈکوارٹر کے قریب ہونے کے باوجود یہ علاقہ تقریباً 30 سال سے بیرونی دنیا سے عملاً کٹا ہوا ہے۔
مقامی لوگوں کو قریبی دیہی اسپتال پہنچنے کے لیے مریضوں کو عارضی چارپائی پر تقریباً 500 میٹر تک اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔
اگر کسی مریض کو چنچل کے سب ڈویڑنل اسپتال یا مالدہ کے ضلعی صدر اسپتال لے جانا ہو تو اسے علاقے سے تقریباً 350 میٹر دور اس قریبی سڑک تک چارپائی پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے، جہاں ایمبولینس پہنچ سکتی ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق، پہلے اس علاقے میں رابطے کے لیے ایک سڑک موجود تھی، لیکن آہستہ آہستہ ایک تالاب نے اس سڑک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں علاقے کے لوگوں کا مناسب راستہ ختم ہو گیا۔
ایک مقامی رہائشی سیما داس نے کہا، ”علاقے کا رابطہ نظام تباہ ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ ہنگامی حالات میں ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ سائیکل یا موٹر سائیکل سے سفر کرنا انتہائی خطرناک ہے، جبکہ اندھیرا ہونے کے بعد پیدل چلنا بھی محفوظ نہیں ہے۔“انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین اور تشویش ناک حالت میں موجود مریضوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیما داس نے مزید کہا، ”ہنگامی حالات میں مریضوں کو پہلے عارضی چارپائی پر اٹھا کر مرکزی سڑک تک لے جانا پڑتا ہے، اس کے بعد ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ اس تاخیر کے باعث مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں چارپائی پر مریض کو لے جانے کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے، وہ اسی اذیت ناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے جس سے ہمیں روزانہ گزرنا پڑتا ہے۔ ہمارے علاقے میں آمدورفت کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔“
ایک اور مقامی رہائشی مانا داس نے الزام لگایا کہ مقامی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں سے بار بار اپیل کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے کہا، ”ہم نے مناسب سڑک کی تعمیر کے لیے انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے بار بار درخواست کی ہے۔ انتخابات کے دوران وعدے کیے گئے، لیکن مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکلا۔“انتظامیہ نے ابھی تک وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے مریض کی شناخت نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی تھی۔ہریش چندرپور کے ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے محمد متیب الرحمٰن نے کہا کہ علاقے میں جلد سڑک تعمیر کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔تاہم، مقامی سی پی ایم رہنما جمیل فردوس نے الزام لگایا کہ سابقہ ترنمول حکومت اور موجودہ بی جے پی کی قیادت والی ”ڈبل انجن“ حکومت، دونوں ہی اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں رہی ہیں۔ہریش چندرپور پنچایت کے اپا پردھان (نائب سربراہ) اور بی جے پی کے منڈل صدر اجے پاسوان نے گزشتہ 15 سال سے علاقے میں مناسب رابطہ سڑک فراہم نہ کرنے کے لیے ترنمول کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔پاسوان نے کہا، ”ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد فوری کارروائی کے لیے اس معاملے کو باضابطہ طور پر بلاک انتظامیہ کے علم میں لایا گیا ہے۔“
ہریش چندرپور-1 بلاک کے ایک انتظامی افسر نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ”ہم علاقے کو جوڑنے کے لیے ایک نئی سڑک تعمیر کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

Back to top button
Translate »