اتراکھنڈ میں ٹریکنگ کے دوران برفانی طوفان کی زد میں آئے بانکوڑہ کے پانچ باشندے، مجموعی طور پر آٹھ افراد لاپتہ! ہیلی کاپٹر سے تلاش جاری

اتراکھنڈ میں ٹریکنگ کے دوران برفانی طوفان کی زد میں آئے بانکوڑہ کے پانچ باشندے، مجموعی طور پر آٹھ افراد لاپتہ! ہیلی کاپٹر سے تلاش جاری

اتراکھنڈ میں پہاڑوں پر ٹریکنگ کے لیے جانے والے بنگالی مہم جووں کا ایک گروپ برفانی طوفان کی زد میں آگیا۔ بانکوڑہ کے پانچ باشندوں سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے اتراکھنڈ انتظامیہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سرچ آپریشن چلا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اکتوبر کے آخری ہفتے میں آٹھ مہم جوو¿ں کا ایک گروپ اتراکھنڈ کے گنگوتری پہنچا تھا۔ اس گروپ میں بانکوڑہ کے شالبنی گاو¿ں کے رہنے والے تاپس باوڑی، رتن گھوش، رنٹو منڈل، ا±دے گھوش اور کیشرا گاو¿ں کے رہائشی منوج کھواس شامل تھے۔ آٹھ افراد کے اس گروپ میں اترپردیش کے لکھنو¿ کے دو اور اتراکھنڈ کے اترکاشی کا ایک باشندہ بھی شامل تھا۔ ان کا منصوبہ گنگوتری سے کیدار تال تک ٹریکنگ کرنے کا تھا۔

آٹھ مہم جوو¿ں کے ساتھ شیرپا اور معاون عملے سمیت مزید چار افراد بھی موجود تھے۔ 30 اکتوبر کو پہاڑ سے کسی طرح نیچے اترنے کے بعد ان لوگوں نے بتایا کہ آٹھ افراد کا گروپ برفانی طوفان کی زد میں آگیا ہے۔ اس کے بعد ہی اتراکھنڈ انتظامیہ نے امدادی کارروائی شروع کی۔

اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) گزشتہ دو دن سے ہمالیہ کے اس مخصوص مقام پر تلاش کر رہی ہے، لیکن اب تک لاپتہ آٹھ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے بتایا ہے کہ بالائی ہمالیائی علاقے میں موسم خراب ہونے کے باعث سرچ آپریشن میں بار بار رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

دوسری جانب وقت گزرنے کے ساتھ لاپتہ مہم جوو¿ں کے اہل خانہ کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے اہل خانہ سے رابطہ کرکے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

لاپتہ رنٹو منڈل کے بڑے بھائی سنٹو منڈل نے کہا، ”میرے بھائی کو پہاڑوں پر چڑھنے کا بہت شوق ہے۔ ہر سال درگا پوجا کے موقع پر وہ دوستوں کے ساتھ مختلف پہاڑی علاقوں کی سیر کے لیے نکل جاتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ گزشتہ پیر کو بھائی سے آخری بار بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے فون بند آ رہا ہے۔ ہم انتہائی پریشانی میں دن گزار رہے ہیں۔“

لاپتہ تاپس باوڑی کے والد لال موہن باوڑی نے کہا، ”بیٹے نے بتایا تھا کہ کالی پوجا سے پہلے گھر واپس آجائے گا۔ پیر کو پولیس گھر آئی اور بتایا کہ ان لوگوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ اس صورت حال میں ہم کس طرح دن گزار رہے ہیں، یہ صرف ہم ہی جانتے ہیں۔“

قابلِ ذکر ہے کہ جمعہ کے روز اتراکھنڈ کے بدری ناتھ سے پانچ عقیدت مندوں کو لے کر ایک ہیلی کاپٹر دہرادون کی جانب جا رہا تھا۔ جوشی مٹھ کے قریب ہاتھی پہاڑ پر وہ حادثے کا شکار ہوکر گر کر تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں پائلٹ سمیت چھ افراد کی موت ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے پانچوں مسافر کرناٹک کے رہنے والے تھے، جبکہ پائلٹ دہلی کا باشندہ تھا۔

اس حادثے کے بعد اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (یو سی اے ڈی اے) نے بتایا کہ خراب موسم کے حوالے سے پہلے ہی انتباہ جاری کیا گیا تھا اور تمام پروازیں بند کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ انتباہ کے باوجود ہیلی کاپٹر کو پرواز کی اجازت کیوں دی گئی، اس سوال کو اٹھاتے ہوئے اتراکھنڈ کی ریاستی انتظامیہ نے متعلقہ فضائی کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

Back to top button
Translate »