
چپس، چاکلیٹ کا لالچ دے کر طالبہ کی شرمگاہ پر ہاتھ استاد کا! کرشن نگر کے اسکول میں ہنگامہ
چپس، چاکلیٹ کا لالچ دے کر طالبہ کی شرمگاہ پر ہاتھ استاد کا! کرشن نگر کے اسکول میں ہنگامہ
چپس، چاکلیٹ اور لڈو کا لالچ دے کر طالبہ کی شرمگاہ پر ہاتھ ڈالنے کا الزام اسکول کے پرنسپل کے خلاف لگا۔ زبردستی اس نابالغ طالبہ سے ہاتھ، پاو¿ں اور جسم بھی دبانے کا الزام ہے۔ اس الزام کے نتیجے میں بدھ کو کرشن نگر کے ایک اسکول میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ والدین نے احتجاج کیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے شانتی پور تھانے کی پولیس اسکول پہنچی۔ بعد میں ملزم پرنسپل کو حراست میں لے کر تھانے لے جایا گیا۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے علاقے میں مسلسل بارش ہو رہی ہے، اس لیے اسکول میں طلباءکی حاضری کم تھی۔ واقعے کے روز بھی اسکول میں کوئی خاص طالب علم نہیں آیا تھا۔ اساتذہ میں سے صرف پرنسپل ہی اسکول آئے تھے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر پرنسپل نے اس طالبہ کو اپنے پاس بلایا۔ الزام ہے کہ کھانے کا لالچ دے کر نابالغ کی شرمگاہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے اپنی شرمگاہ چھونے پر مجبور کیا۔ نابالغ سے ہاتھ، پاو¿ں اور جسم دبانے کا بھی کام لیا گیا۔ دوپہر میں گھر واپس جا کر اس طالبہ نے اپنی ماں کو واقعے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔ اس الزام کے گرد علاقے میں غم و غصہ پھیل گیا۔ دوسرے والدین کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے ان کی بیٹیوں کے ساتھ بھی اس طرح کا برا سلوک کیا تھا۔ وہ ترنمول کی اساتذہ تنظیم کی قیادت کے قریب تھا، اسی وجہ سے والدین اس کے خلاف شکایت نہیں کر سکے۔


