ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل گروہ کی شکل میں بائیک چلانے پر پابندی رہے گی
ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل گروہ کی شکل میں بائیک چلانے پر پابندی رہے گی
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی رائے دہی سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ نے موٹر سائیکل چلانے کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل گروہ کی شکل میں بائیک چلانے (Group Riding) پر پابندی رہے گی، تاہم انفرادی آزادی کا خیال رکھا جائے گا۔
جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس اجے کمار گپتا کے ڈویڑن بنچ نے حکم دیا ہے کہ انتخابات سے 48 گھنٹے پہلے ٹولی بنا کر یا گروپ میں بائیک چلانا ممنوع ہوگا۔ یہ فیصلہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور بائیک ریلیوں کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔2۔ انفرادی آزادی اور ‘ہوا خوری’ کی اجازت عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کسی کی ذاتی آزادی میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ جسٹس سرکار نے ریمارکس دیے:
"اگر کوئی اکیلا بائیک پر تازہ ہوا کھانے (کھلی ہوا میں گھومنے) نکلنا چاہتا ہے، تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کسی کی انفرادی آزادی میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
اس سے قبل جسٹس کرشنا راو¿ کے سنگل بنچ نے کہا تھا کہ ووٹنگ سے 12 گھنٹے پہلے تک ہنگامی ضرورت کے بغیر سواری لے جانا منع ہے، لیکن اہل خانہ کے ساتھ بائیک پر ووٹ ڈالنے جانے کی اجازت دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے خلاف ڈویڑن بنچ سے رجوع کیا تھا، جس پر اب یہ نئی وضاحت سامنے آئی ہے۔

