عدالت کی کارروائی کو غیر مجاز طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈالنے ، شیئر کرنے پر سپریم کورٹ کی روک
عدالت کی کارروائی کو غیر مجاز طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈالنے ، شیئر کرنے پر سپریم کورٹ کی روک

نئی دہلی 24 جولائی : سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک عبوری حکم جاری کر کے عدالت کی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کو متعلقہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ڈالنے ، ایڈٹ کرنے ، شیئر کرنے یا اس سے کمائی کرنے پر روک لگا دی ہے ۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے یہ عبوری حکم دیا۔ بنچ نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے غیر مجاز کلپس بنانے اور انہیں چنندہ انداز میں پھیلانے سے عدالتی کارروائی کے بگڑنے اور ڈیجیٹل مواد کے غلط استعمال کے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
عدالت نے تاہم یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ پابندی عدالت کی کارروائی کی درست اور مستند خبروں کی رپورٹنگ پر لاگو نہیں ہوگی۔ بنچ نے اس سلسلے میں ایکس اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کو مجوزہ ضابطہ نافذ کرنے کے لیے نوڈل وزارتوں کی شناخت کرنے اور تمام ہائی کورٹس کو ماڈل لائیو اسٹریمنگ رہنما خطوط کے نفاذ پر رپورٹ دینے کی ہدایت دی ہے ۔
عوامی مفاد کی درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ وکاس سنگھ نے دلیل دی کہ انہیں لائیو اسٹریمنگ سے کوئی اعتراض نہیں ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی نامکمل اور چنندہ کلپس گمراہ کن ماحول بنا رہی ہیں۔ انہوں نے جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ کے سامنے حال ہی میں ہوئے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الگ الگ کلپس وائرل ہو گئیں اور عدالت کی سنگین کارروائی کا مذاق بنا دیا گیا۔
غلط رپورٹنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پرنٹ میڈیا میں بھی ان کی باتوں کو غلط طریقے سے پیش کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بات انہوں نے کبھی کہی ہی نہیں، وہ بھی ان کے نام سے چلا دی گئی۔
جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈیٹا کو کنٹرول کرنا آج سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔ عدالتیں تفریح کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ججوں اور وکلاءکے بولے گئے الفاظ کو بدلا جا سکتا ہے ۔ یہ حکم صحافی ہرشیتا گروور کی طرف سے دائر کی گئی عوامی مفاد کی درخواست پر آیا ہے ۔ درخواست میں عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ کو کاٹنے ، ایڈٹ کرنے اور ان سے کمائی کرنے کو کنٹرول کرنے کے لیے ضابطہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسے ویڈیوز عدالتی نظام میں عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔

