
ریاستی الیکشن کمیشن ای وی ایم حاصل کرنے کےلئے کورٹ پہنچ گیا
ریاستی الیکشن کمیشن ای وی ایم حاصل کرنے کےلئے کورٹ پہنچ گیا
دسمبر تک کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات! ہوڑہ میں بھی بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں۔ اس کے بعد ریاست کے باقی میونسپل کارپوریشنوں اور میونسپلٹیوں کے انتخابات ہوں گے۔ اس پس منظر میں ریاستی الیکشن کمیشن کے پاس کافی ای وی ایم نہیں ہیں! مختلف اضلاع میں ای وی ایم موجود ہیں۔ انہیں ریاستی انتخابی کمیشن کے حوالے کیا جائے۔ یہ درخواست دے کر ریاستی انتخابی کمیشن کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تاپوبرتا چکرورتی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔ اگلے ہفتے مقدمے کی سماعت کا امکان ہے۔
کسی بھی انتخابات کے بعد مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے پاس ای وی ایم مشینیں رہ جاتی ہیں۔ تمام ای وی ایم مشینوں پر ووٹ نہیں پڑتے۔ وہ اضافی ہوتی ہیں۔ بہت سے معاملات میں اگر انتخابی نتائج کے خلاف مقدمہ دائر ہوتا ہے تو ان ای وی ایم کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اکثر قانونی معاملات ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بلدیاتی انتخابات قریب ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے پاس موجود ای وی ایم واپس مانگنے کے لیے ہائی کورٹ سے ہدایت چاہ رہا ہے۔
واضح رہے کہ ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد ہی میونسپل کارپوریشنوں اور میونسپلٹیوں میں انتخابات کرانے کی بات چیف منسٹر شوبھیندو ادھیکاری نے کہی تھی۔ ہاوڑہ سمیت متعدد میونسپلٹیوں میں طویل عرصے سے ایڈمنسٹریٹر بٹھا کر کام چل رہا تھا۔ یہ جاری نہیں رہ سکتا، اس لیے انہوں نے انتخابات کی بات کہی۔ اسی دوران ایک بار پھر کلکتہ میونسپل کارپوریشن میں تعطل پیدا ہو گیا۔ میئر کے عہدے سے فیرہاد حکیم نے استعفیٰ دے دیا۔ اس دوران کلکتہ میونسپل کارپوریشن کی نشستوں کی تنظیم نو کا کام جاری ہے۔ اگر سب ٹھیک رہا تو دسمبر کے وسط تک کلکتہ میں انتخابات ہوں گے۔ اس لیے ریاستی انتخابی کمیشن پہلے سے تیاری کرنا چاہ رہا ہے۔


