نندی گرام میں ترنمول کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، امیدوار دے بھی پائے گی؟

نندی گرام میں ترنمول کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، امیدوار دے بھی پائے گی؟

نندی گرام میں اس بار کوئی آمنے سامنے کی لڑائی نہیں ہے۔ بی جے پی کی لڑائی ’ریکارڈ‘ فرقِ ووٹ بنانے کی ہے، جبکہ ترنمول کی لڑائی امیدوار تلاش کرنے کی ہے۔
2021 کے اسمبلی انتخابات میں شوبھندو ادھیکاری نے نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست دے کر سیاسی ہلچل مچا دی تھی۔ اس وقت جیت کا فرق 1,956 ووٹ تھا۔ 2026 میں ممتا نندی گرام سے امیدوار نہیں بنیں۔ شوبھندو نے اپنی جیت کا فرق بڑھا کر 9,665 کر لیا۔ ممتا کو شکست دے کر جیتی ہوئی بھوانی پور سیٹ اپنے پاس رکھتے ہوئے موجودہ وزیرِ اعلیٰ نے نندی گرام چھوڑ دیا۔ وہاں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہوگا۔ (اسی دن ریاست میں مرشدآباد کی ریجن نگر اسمبلی سیٹ پر بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔)
اس سال کے اسمبلی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے پھلتا کی ووٹنگ منسوخ کر دی تھی۔ دوبارہ ہونے والے انتخاب میں بی جے پی نے 1 لاکھ 9 ہزار 21 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ جنوبی 24 پرگنہ کے پھلتا کے اسی نتیجے کو مشرقی مدنی پور کے نندی گرام ضمنی انتخاب کے لیے شوبھندو نے معیار بنا دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے رہنماو¿ں اور کارکنوں سے کہہ دیا ہے کہ پھلتا کے جیت کے فرق کو ہر حال میں پیچھے چھوڑنا ہوگا۔نندی گرام کے بی جے پی رہنماو¿ں کا خیال ہے کہ یہ بالکل ناممکن نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کے اندر ہی اس بات کو لے کر شکوک و شبہات ہیں کہ پارٹی واقعی کوئی مضبوط مقابلہ کر پائے گی یا نہیں، اور کیا وہ ایسا امیدوار دے پائے گی جو مقابلے کے قابل ہو۔

Back to top button
Translate »