
شوبھندونے لو جہاد اور لینڈ جہاد کے خلاف قوانینلانے کا اعلان کیا
شوبھندونے لو جہاد اور لینڈ جہاد کے خلاف قوانینلانے کا اعلان کیا
وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے جمعہ کو مشرقی بردوان میں منعقدہ ایک سرکاری پروگرام میں کسانوں کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں زرعی استعمال کی بجلی پر سبسڈی بھی شامل ہے۔ مشرقی بردوان کو بنگال کا ’چاول کا کٹورا‘ کہا جاتا ہے۔
بردوان میں انہوں نے کہا، ”چار لاکھ سے زیادہ کسانوں کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی بجلی پر فی یونٹ 2 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ ایک کسان اپنی کھیتی باڑی میں استعمال ہونے والی بجلی کے بل پر سالانہ 25 سے 30 ہزار روپے تک بچا سکے گا۔“ریاستی حکومت کو بجلی کی سبسڈی پر تقریباً 300 کروڑ روپے خرچ کرنے ہوں گے۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے مشرقی بردوان کی 16 میں سے 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس ضلع کو ترنمول کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ بی جے پی کے رہنماو¿ں نے کہا کہ ضلع میں پارٹی کی کارکردگی غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق زرعی ضلع کے انتخابی نتائج سے ثابت ہوا کہ کسانوں نے بی جے پی پر اپنا اعتماد برقرار رکھا۔
سویندو نے کہا کہ جن اضلاع میں آبادی کا ایک بڑا حصہ کسانوں پر مشتمل ہے، وہاں کے لوگوں نے بی جے پی پر اپنی حمایت نچھاور کی ہے اور حکومت ان کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بردوان کے کسانوں کو ہر ممکن بہترین مدد فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خریدے جانے والے دھان پر کسانوں کو فی کوئنٹل 200 روپے کی اضافی رقم دی جائے گی۔ چونکہ کم از کم امدادی قیمت (MSP) 2,500 روپے ہے، اس لیے کسانوں کو فی کوئنٹل 2,700 روپے ملیں گے۔ یہ سہولت پانچ ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے دستیاب ہوگی۔
سویندو نے کہا کہ پچھلی حکومت کے برعکس کسانوں کو اپنی پیداوار حکومت کو فروخت کرتے وقت کسی دلال، درمیانی شخص یا رائس مل مالک کے ہاتھوں دھوکا نہیں کھانا پڑے گا۔ انہوں نے تمام ایم ایل ایز کو ہدایت دی کہ وہ چوکس رہیں تاکہ حکومت کے دھان خریداری کے عمل میں ایسے کسی درمیانی شخص کی مداخلت نہ ہو۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران آلو کے کاشتکاروں نے ان سے سابقہ حکومت کی مبینہ کسان مخالف پالیسیوں اور ان پر ہونے والے مظالم کی شکایت کی تھی۔ انہوں نے کہا، ”یہ حکومت اس سال دسمبر میں کسانوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی۔‘
انہوں نے کسانوں کو یقین دلایا کہ پی ایم کسان اسکیم کے تحت انہیں مجموعی طور پر 9,000 روپے ملیں گے، جس میں ریاست کی جانب سے 3,000 روپے دیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت ہر سال کسانوں کو 4,000 روپے بھی دے گی، حتیٰ کہ ان کسانوں کو بھی جن کے پاس زرعی زمین کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔
اگرچہ پبلک ورکس اور بجلی محکموں کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر کا زیادہ تر حصہ کسانوں اور غریب لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز رکھا، لیکن آخر میں انہوں نے اپنی حکومت کے ہندوتوا کے عزم کی یاد بھی دلائی ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں جلد ہی یکساں سول کوڈ (UCC) نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد ’لو جہاد‘ اور ’لینڈ جہاد‘ کو روکنے کے لیے نئے قوانین لائے جائیں گے۔
سویندو نے کہا، ”شیاما پرساد مکھرجی نے ایک ملک اور ایک قوم کے نعرے کے لیے عہد کیا تھا۔ ہماری حکومت بہت جلد مغربی بنگال میں UCC نافذ کرے گی۔ اس کے بعد ہم مذہبی تبدیلی کے خلاف قانون لائیں گے، جس کے بعد لو جہاد اور لینڈ جہاد کے خلاف قوانین لائے جائیں گے۔“
سویندو نے کہا کہ عام لوگوں کو کم قیمت پر ریت ملنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر حکومت خود ریت خرید کر عوام کو کم قیمت پر فروخت کرے گی۔
حال ہی میں شکایات سامنے آئی تھیں کہ ریت کی قیمت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے تعمیراتی اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ریت بنیادی طور پر مشرقی بردوان، بیربھوم، بانکورہ اور ہوگلی سے حاصل کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت پوری ریاست میں ریت مافیا کی سرگرمیوں کو ختم کرے گی اور ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں مبینہ طور پر تیزی سے پھیلی تمام غیر قانونی ریت کی کانوں کو بند کیا جائے گا۔ اکتوبر میں ریت کی کان کنی شروع ہونے کے بعد ریت کی قیمت کم ہونے کی توقع ہے۔


