فارم 7 جمع کرانے پر ہنگامہ، چھاتنا میں ترنمول اور بی جے پی کے درمیان تصادم سے علاقہ پرتناو¿

فارم 7 جمع کرانے پر ہنگامہ، چھاتنا میں ترنمول اور بی جے پی کے درمیان تصادم سے علاقہ پرتناو¿

چھاتنا 15جنوری :چھاتنا بی ڈی او آفس میں فارم 7 جمع کرانے کے معاملے پر جمعرات کو بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان تصادم نے شدید رخ اختیار کر لیا۔ صبح سے ہی بی ڈی او آفس کے احاطے میں تناو¿ کی صورتحال بنی رہی۔بی جے پی کا الزام ہے کہ چھاتنا پنچایت سمیتی کے صدر بنکو مترا کی قیادت میں ترنمول کارکنوں نے بی جے پی لیڈروں کو ہراساں کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فارم جمع کرانے میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔
بی جے پی کے جنرل سکریٹری سوپن مکھوپادھیائے نے دعویٰ کیا، "الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق فارم 7 جمع کرانے جانے پر ہمارے کارکنوں کو روک دیا گیا۔ یہ واضح طور پر سیاسی دہشت گردی ہے۔ ترنمول جانتی ہے کہ اگر ہم قانونی طریقے سے آگے بڑھے تو ان کی بے ضابطگیاں پکڑی جائیں گی، اس لیے وہ ڈرا دھمکا کر روک رہے ہیں۔” ان کے ساتھ چھاتنا کے بی جے پی ایم ایل اے بھی موجود تھے۔ ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ "انتظامیہ کی خاموشی ترنمول کی مزید حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
دوسری طرف، ترنمول نے جوابی دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر تناو¿ پیدا کرنے کے لیے بی ڈی او آفس میں ہجوم اکٹھا کیا۔ ترنمول قیادت کا کہنا ہے کہ فارم 7 جمع کرنے کے نام پر بی جے پی پہلے بھی تنازعات میں رہی ہے اور اب بھی اسی حکمت عملی کے تحت دباو¿ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ بنکو مترا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ "اگر کام قانون کے مطابق ہو رہا ہو تو مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بی جے پی خود ہنگامہ کرنا چاہتی تھی۔، صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پولیس تعینات کر دی گئی ہے اور دونوں فریقین کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم، دن کے اختتام پر یہ واضح ہو گیا کہ فارم 7 کے گرد گھومتا یہ تنازع اب کوئی معمولی واقعہ نہیں رہا۔ کھاتڑا کے بعد اب چھاتنا میں بھی اسی مسئلے پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ اور فارم 7 اب ایک اہم سیاسی ہتھیار بن چکے ہیں۔
Back to top button
Translate »