
13 دن کے اندر ملک واپس آنا ہوگا، سپریم کورٹ نے بیربھوم کے ’پتھر مافیا‘ ٹولو منڈل کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دیا حکم
13 دن کے اندر ملک واپس آنا ہوگا، سپریم کورٹ نے بیربھوم کے ’پتھر مافیا‘ ٹولو منڈل کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دیا حکم
پتھر کے تاجر ٹولو منڈل کے خلاف سرکاری محصولات کی خرد برد اور فرضی رسیدیں تیار کرنے جیسے الزامات کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ ریٹائرڈ لینڈ افسر پر فرضی رسیدوں یا ڈپلیکیٹ کاربن رسید (DCR) کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
آئندہ 13 دنوں کے اندر بیربھوم کے ’پتھر سمراٹ‘ ٹولو منڈل کو ملک واپس آنا ہوگا۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ وہ 17 نومبر تک ہندوستان واپس آجائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں عدالتی تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 7 دسمبر تک پولیس ٹولو منڈل کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کر سکے گی۔
پتھر کے تاجر ٹولو کے خلاف سرکاری محصولات کی خرد برد اور فرضی رسیدیں تیار کرنے جیسے الزامات کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ ریٹائرڈ لینڈ افسر پر فرضی رسیدوں یا ڈپلیکیٹ کاربن رسید (DCR) کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ترنمول دورِ حکومت میں پتھر کے تاجر کی حیثیت سے ٹولو کو کئی بڑے سرکاری منصوبوں کے ٹھیکے ملتے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد پولیس پہلے ہی سیوری عدالت میں چارج شیٹ داخل کر چکی ہے، جس میں انہیں مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الزامات سامنے آنے کے بعد سے ہی وہ فرار ہیں۔ تفتیش کاروں کا ابتدائی اندازہ ہے کہ اس وقت ٹولو دبئی میں مقیم ہیں۔
منگل کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ٹولو کے وکیل مکل روہتگی نے کہا تھا کہ اگر ان کے مو¿کل کو عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ ہندوستان واپس آسکتے ہیں۔ ان کے خلاف پولیس سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ اپنے دلائل میں وکیل روہتگی نے کہا کہ ٹولو داو¿د ابراہیم نہیں ہیں۔ وہ دبئی جاکر قانونی طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے ریاستی حکومت سے اس کا موقف معلوم کیا۔
بدھ کے روز ریاست کی جانب سے مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اگر ٹولو ملک واپس آتے ہیں تو فی الحال تین ہفتوں تک پولیس انہیں گرفتار نہیں کرے گی۔ تاہم، تحقیقات کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا۔
البتہ عدالت میں انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ ملک واپس آنے کے بعد ٹولو کو مقدمے کے گواہوں یا عینی شاہدین کو متاثر کرنے اور شواہد ضائع کرنے سے روکنے کے لیے بھی ہدایات جاری کی جائیں۔ ریاست کا موقف سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ٹولو کو عدالتی تحفظ فراہم کرتے ہوئے ہندوستان واپسی کے لیے وقت کی حد مقرر کر دی۔


