فہیم اختر کی قیادت میں عالمی اردو کانفرنس کا کامیاب انعقاد

فہیم اختر کی قیادت میں عالمی اردو کانفرنس کا کامیاب انعقاد

یونیورسٹی آف حیدرآباد میں عالمی اردو کانفرنس کا دوسرا دن بھی علمی و ادبی سرگرمیوں سے معمور، صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی کلکتہ بانی فہیم اختر صاحب عالمی کانفرنس کرکے مثال قائم کر دی ہے۔ عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن اس عالمی سمینار میں ملک و بیرونِ ملک کے اسکالرس نے مقالے پیش کیے ۔اس کانفرنس میں استنبول ترکی کے مہمانوں کی بھی شرکت
حیدرآباد دکن: پہلے دن کا سیمینار ”شامِ غزل“ کی خوبصورت ادبی محفل کے ساتھ اختتام پذیر ہونے کے بعد عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن بھی یونیورسٹی آف حیدرآباد میں علمی و ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف سیشنوں میں ملک کے گوشے گوشے سے تشریف لائے اسکالرس اور ماہرینِ اردو نے اپنے تحقیقی و علمی مقالے پیش کیے، جبکہ ترکی کے شہر استنبول سے آئے مہمانوں نے بھی مقالہ نگاری میں حصہ لیا۔
صدارتی خطاب میں مقالہ نگاروں کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ آج کے پہلے سیشن میں پیش کیے گئے معیاری مقالوں پر تبصرہ کرنے کی جر?ت نہیں کرسکتے، تمام مقالہ نگاروں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
کانفرنس کے دوران اسکالرس اور دانشوروں کی بڑی تعداد کو مرکزی کردار جناب فہیم اختر صاحب کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے ہوئے دیکھا گیا۔ پروفیسر عبدالقدوس صاحب، صدرنشین حسینی علم ڈگری کالج کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ فہیم اختر صاحب، پرویز اختر صاحب اور دیگر علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ ان کی ملاقات اور تعارف کا منظر نہایت خوشگوار ماحول کی عکاسی کررہا تھا۔ دوسرے دن کے اجلاس دو اہم ہالوں میں منعقد ہوئے۔
اس عالمی کانفرنس کی کامیابی میں پرویز اختر صاحب، پروفیسر عرشیہ جبیں صاحبہ، صدر شعبہ اردو، اور ڈاکٹر محمد کاشف کی محنت و کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس کی جانب سے صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی، کلکتہ کے سرپرست اعلیٰ جناب فہیم اختر صاحب اور پوری منتظمہ ٹیم کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ڈاکٹر مختار احمد فردین کی جانب سے کانفرنس کے دوسرے دن کی یہ تصویری جھلکیاں اردو دنیا اور بالخصوص روزنامہ تاثیر کے قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہیں، تاکہ ان یادگار علمی و ادبی لمحات کو تصاویر کے ذریعے بھی محفوظ کیا جاسکے۔
بقول داغ دہلوی:
”اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے“
Back to top button
Translate »