پورے بنگال میں بی جے پی کی جانب سے شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

پورے بنگال میں بی جے پی کی جانب سے شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

وہ بھارت ماتا کے بہادر بیٹے تھے۔ ‘بھارت کیشری’۔ شیا ما پرساد مکھرجی کی یوم پیدائش کے موقع پر پوری ریاست میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ کلکتہ آ رہے ہیں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ۔ ایکس ہینڈل پر پوسٹ کر کے خراج عقیدت پیش کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے۔ ایکو پارک میں شیا ما پرساد کے مجسمے پر پھول چڑھائے وزیر دلپ گھوش نے۔ مرلیدھر سین لین میں بی جے پی کے مرکزی دفتر میں شیا ما کو یاد کیا بی جے پی کے ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے۔ مدھیہ گرام میں پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ خصوصی تقریب میں شریک تھے سابق ریاستی صدر سکانت بھٹاچاریہ۔
ریاستی وزیر اگنی مترا پال نے واضح کیا کہ گزشتہ ۱۵ سالوں سے ممتا نے جو تقسیم کی سیاست کی، اسے اب مزید نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسی لیے ممتا کو باروئی پور جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگنمترا کا طنز تھا کہ باروئی پور کے واقعے پر ‘سیاست’ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ممتا۔ اسی لیے انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے الفاظ تھے، "اناو¿ میں لوگ بھیجے تھے (ممتا نے)۔ منی پور میں لوگ بھیجے ہیں۔ اس ریاست کے ہر گاو¿ں میں جو کچھ ہوا، وہاں لوگ نہیں بھیجے۔ انہوں نے دبا دیا۔ آج وہ وہاں سیاست کرنے جائیں گی، کیا ہم اجازت دیں گے؟ گھر میں نظربند کیوں نہیں ہونا چاہیے۔” اگنمترا یہیں نہیں رکیں۔ انہوں نے کہا، "۱۵ سالوں سے تقسیم کی سیاست کی ہے (ممتا نے)۔ مزید نہیں ہونے دیں گے۔ اس دن بھی آپ نہیں گئیں، آج بھی نہیں جائیں گی۔ ہم پہلے جا چکے ہیں۔ اب بھی جائیں گے۔” ساتھ ہی اگنمترا نے کہا، "کس کو مارا، کیسے لوگوں کو مارا، کس نسل کے لوگوں کو مارا، یہ ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔ کسی بھی عورت پر اگر تشدد کیا جائے تو مجرم کو چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ یہ پچھلی کوئی بھی حکومت نہیں ہے۔” ریاستی وزیر خزانہ سواپن داس گپتا نے بھی باروئی پور کے واقعے کو ‘گھناو¿نا’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘مجرم’ جلد پکڑے جائیں گے۔

Back to top button
Translate »