مکافات عمل اور ہماری زندگی

مکافات عمل اور ہماری زندگی


از فہیم اختر لندن
مکافات عمل سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ اس دنیا میں یا بعد میں ضرور ملتا ہے۔ اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا انجام برا ہوتا ہے۔ یہ ایک فطری اور اخلاقی قانون ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بھی ہوشیار ہو، اپنے اعمال کے اثرات سے کیا نہیں سکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سچ سامنے آہی جاتا ہے اور انصاف اپنا راست خود بنا لیتا ہے۔ مرکافات عمل انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ بد دیانتی وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر آخر کار یہی ہیں۔ اس کے برعکس سچائی، ایمانداری، ہمدردی اور اپنے قول و فعل میں احتیاط کرے۔ ظلم ، دھوکہ، حسد اور اعمال انسان کے لیے مشکلات اور پشیمانی کا سبب بنتے محنت انسان کو عزت سکون اور کامیابی عطا کرتی ہے۔ مکافات عمل ایک اٹل حقیقت ہے جو ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے چاہے اچھا ہو یا یرا، ہمیں ضرور ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دانا لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ انسان جو ہوتا ہے وہی کا لیتا ہے۔ بچپن میں اکثر بڑی بوڑھیاں جب اپنے رشتہ داروں یا پڑوسیوں سے عاجز اور بیزار ہوتیں یا کسی سے ناراض ہوتیں تو غصے میں اس شخص کو کہتی کہ اللہ نے چاہا تو تیرا سر بہت برا ہوگا یا جیسا تو نے میرے ساتھ کیا اللہ بھی تھے ویساہی کرے گا یا اللہ تجھے غارت کرے گا” ، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ، ہم مارے خوف کے ان باتوں کو سن کر افسوس کرتے کہ آخر بڑی بی کو ایسا کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ لیکن ان دنوں بچارے مجبور لوگوں کا کوئی سننے والا کون ہوتا تھا۔ یہ بیچارے لوگ قلم سہتے اور اپنے آنسو بہا بہا کر گھٹ گھٹ کر جیتے رہتے۔ معاشرے میں بدنامی کی وجہ سے نہ وہ تھانے جا کر رپورٹ لکھواتے اور نہ ان کو کوئی انصاف دلانا والا ہوتا تھا۔ ایسی صورت میں وہ بس چلا چلا کر اپنی زندگی میں ہوئے زیادتیوں پر آنسو بہاتے اور بددعا دیتے اور اللہ سے انصاف کی امید لگائے ایسی باتوں کو کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ مکافات عمل کیا ہے ؟ مکافات عمل کا مطلب عمل کا بدلہ، وہ عمل جو ہم کرتے ہیں اور بدلہ جو ہمیں ماتا ہے۔ اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے۔ چاہے وہ اچھا ہو یا برا ہو۔ جس طرح اچھائی کی جزا ملتی ہے اسی طرحبرائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ لیکن آج ہم اپنے نفس کے غلام ہو چکے ہیں اور صرف اپنے مفاد کے لیے ہی ہر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مکافات عمل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہیے۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے دلوں کے حال کو جانتا 4 اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالے تو بے شمار ایسے کام اور باتیں ہم کر جاتے جس سے یا تو ہم واقف یا نا واقف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم دوستوں کی صحبت یا اپنی عادت کی بنا پر ایسی حرکتوں کو زندگی میں لطف لینے کا سامان بنا لیتے ہیں۔ مثلاً کسی کا خواخواہ دل دکھانا یا اپنی دولت پر فخر کرتے ہوئے اس کا بے جا استعمال کرنا یا اپنی طاقت کا استعمال کر کے ظلم کرنا یا اپنی پوزیشن پر ناز کرتے ہوئے بے ایمانی کرنا یا لالچ میں آکر رشوت لیتا یاکسی کی سادگی یا ایمانداری کا مذاق از انا وغیرہ ایسی با تیں ہیں جس سے ہم اور آپ اپنے معاشرے میں آئے دن دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ رمضان کے اس مبارک مہینے میں جہاں ہم سب اجتماعی طور پر عبادت کر کے اپنی گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں تو وہیں اپنے روزے اور نماز کی ادائیگی سے اللہ سے امید بھی رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انسانوں نے جس قدر مظلوموں پر قلم ، غربیوں پر گی، لوگوں کو گمراہ کرتا ، زمینوں کو ہڑپ کرنا، کاروبار میں بدنیتی جھوٹی شہرت حق اور باطل پر خاموش ، ہر چیز درست، ناجائز کو جائز مانتا حرام اور حلال میں کوئی فرق نہیں، مکاری، جلن، حسد اور ایسی کئی باتیں جو ہمارے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے روز ہورہی ہیں اور ہم ایک تماشائی کی طرح بے حس بنے ہوئے ہیں۔ جس سے ہماری پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اور یہ تمام پریشانیاں اور مایوی میں کسی نہ کسی معاملے میں الجھائے رکھتی ہیں جس سے ہم غافل ہوتے ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ ہماری کرتوتوں سے ہمیں اس عذاب میں ڈال کر ہمارا امتحان لے رہا ہے۔ تاریخ میں کئی ظالم حکمرانوں کی مثالیں موجود ہیں جو لوگوں پر ظلم کرتے رہے، مگر وقت کے ساتھ وہی علم ان کی زندگیوں میں تباہی لے آیا۔ فرعون کی مثال لیے، جو کمزوروں پرظلم کرتا رہا لیکن بالآخروہ خود دریائے نیل میں غرق ہو گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ہے لوٹ ہو کر دوسروں کی مدد کرتا ہے تو ایک نہ ایک دن وہ خود کسی مشکل میں پڑنے پر غیر متوقع مد د پاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے واقعات بیان کرتے ہیں جہاں انہوں نے کسی اجنبی کی مدد کی اور بعد میں کسی اور نے بالکل ویسی ہی صورت حال میں ان کی مدد کی۔ ایک مشہور حکایت ہے کہ ایک بار ایک غریب مسافر سخت سردی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا کانپ رہا تھا۔ قریب ہی ایک رئیس کا شاندار محل تھا۔ مسافر نے رئیس کے دروازے پر جا کر دستک دی اور التجا کی کہ اسے رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ دے دی جائے اگر رئیس نے سختی سے انکار کر دیا اور خادموں کو حکم دیا کہ اسے باہر نکال دیں۔ چارہ مسافر ٹھٹھرتے ہوئے وہ رات کسی نہ کسی طرح کاٹ کر اگلے دن آگے نکل گیا۔ چند سال بعد ، حالات بدلے۔ وہی غریب مسافر محنت اور قسمت کے بل بوتے پر ایک کامیاب تاجر بن گیا۔ دوسری طرف وہ رئیں بد انتظامی اور غرور کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا۔ ایک دن ایسا آیا کہ دو رئیس خود محتاج ہو کر اسی تاجر کے دروازے پر مدد مانگنے پہنچا۔ جب تاجر نے اسے دیکھا تو مسکرا کر کہا: میں وہیں مسافر ہوں جسے آپ نے ایک رات پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ آج قدرت نے ہمیں ایک دوسرے کی جگہ کھڑا کر دیا ہے۔ یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کو کمتر سجھ کر رہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ جو اچھائی کرے گا، اسے بھلائی ملے گی اور جو برائی کرے گا۔ اسے ویسا ہی انجام دیکھنا پڑے گا۔ آج کل عام طور پر مسلم اکثریتی ممالک میں یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بعض تاجر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ حالانکہ رمضان صبر ، تقوی، ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہے، مگر منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے رونے اس کی روح کے سراسر خلاف ہیں۔ اسلام ہمیں دیانت داری، انصاف اور دوسروں کے ساتھ آسانی برتنے کا درس دیتا ہے، شہ کہ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کا۔ رمضان کے مہینے میں غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی اضافی اخراجات اور روز مرہ ضروریات کے دباو¿ میں ہوتا ہے۔ ایسے میں قیمتوں کا بلا جواز اضافہ معاشرتی نا انصافی کو جنم دیتا ہے اور باہمی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ نبی کریم پالے نے تجارت میں ناپ تول پورا رکھنے اور دھوکے سے بچنے کی سخت تلقین فرمائی ہے، جبکہ نا جائز منافع کو ناپسند کیا گیا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تاجر طبقہ رمضان المبارک کو کمائی بڑھانے کے بجائے اخلاقی بہتری اور سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھے۔ اگر اس مہینے میں قیمتیں کم کی جائیں یا کم از کم اعتدال میں رکھی جائیں تو یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہوگا بلکہ معاشرے میں خیر، برکت اور باہمی اخوت کو بھی فروغ دے گا۔ ایک شخص اپنے کاروبار میں نا جائز منافع کمانے کے لیے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ دوکم تو ا ، قص چیزیں اپنا اور جھوٹ بول کر قائدہ اٹھاتا۔ ابتدا میں اسے بہت فائدہ ہوا اور وہ خود کو کامیاب سمجھنے لگا۔ لیکن کچھ عرصے بعد اس کی بد دیانتی مشہور ہو گئی۔ گاہک اس سے منہ موڑنے گئے، کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ مالی مشکلات میں مبتلا ہو گیا۔ سی اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا، یعنی مکافات عمل۔ زندگی میں ہمیں ایسے کئی مواقع ملتے ہیں جہاں ہم اپنی مرضی کے مطابق اچھے یا برے فیصلے کرتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں ، ان کی مدد کرتے ہیں اور نیکی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا صلہ ہمیں کسی نہ کسی صورت میں ضرور ملتا ہے۔ اسی طرحاگر ہم کسی کے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں ، دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں یا کسی کا حق مارتے ہیں تو وقت کے ساتھ ہمیں بھی ویسا ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ اصول صرف مذہبی تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ سائنسی اور نفسیاتی طور پر بھی درست ثابت ہوتا ہے۔ انسان جو توانائی ، احساسات اور اعمال دنیا میں بھیجتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے پاس واپس آتا ہے۔ زندگی کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی مکافات عمل فورا ظاہر نہیں ہوتا لیکن وقت کے ساتھ قدرت اپنا حساب چک دیتی ہے۔ ہماری زندگی میں کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جہاں لوگ دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور وقتی طور پر خوشحال نظر آتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان کی زندگی کچھ لوگ بے لوث خدمت کرتے ہیں اور ان کی نیکی کا بدلہ انہیں غیر متوقع طریقوں سے ملتا ہے۔ لہذا، ہمیں ہمیشہ اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ ہم دنیا میں کیا بیج بو ر ہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سکون، خوشی اور کامیابی ہو تو ہمیں اچھائی کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ مکافات عمل کا اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ انصاف قدرت کا اٹل نظام ہے جو بھی نہ کبھی ضرور عمل میں آتا ہے۔ مکافات عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اچھے اعمال کرنے چاہئیں اور برے کاموں سے بچنا چاہیے، کیونکہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں ہمارے پاس ضرور واپس آتا ہے۔ قدرت کا انصاف اٹل ہے اور وقت کے ساتھ ہر شخص کو اپنے اعمال کا نتیجہ ضرور ملتا ہے۔ مکافات عمل ہمیں زندگی میں بیچ راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگر انسان نیک نیتی سچائی اور انصاف کے ساتھ زندگی گزارے تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ اپنے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

Back to top button
Translate »