کیننگ سے سی پی آئی ایم اپنا امیدوار کھڑا کرے گی
کیننگ سے سی پی آئی ایم اپنا امیدوار کھڑا کرے گی
اتحادی جماعت آئی ایس ایف کے امیدوار کے طور پر آرابول اسلام کی نامزدگی نے سی پی آئی ایم (CPIM) کو شدید مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ کیننگ پورب (Canning East) سے ان کی امیدواری کے بعد اب سی پی ایم کے اندر سے ہی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ وہاں پارٹی اپنا الگ امیدوار کھڑا کرے۔
کبھی بھانگوڑ کے طاقتور ترنمول لیڈر رہنے والے آرابول اسلام حال ہی میں نوشاد صدیقی کی پارٹی آئی ایس ایف میں شامل ہوئے ہیں۔ پیر کے روز آئی ایس ایف نے انہیں کیننگ پورب سے اپنا امیدوار قرار دے دیا۔ اس فیصلے نے سی پی ایم کے لیے ایک ‘دھرم سنکٹ’ (اخلاقی بحران) پیدا کر دیا ہے، کیونکہ سی پی ایم برسوں سے آرابول اسلام کی سرگرمیوں اور ان کی تعلیمی قابلیت کے خلاف سب سے زیادہ آواز بلند کرتی رہی ہے۔سی پی ایم کے نچلی سطح کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں آرابول اسلام کی حمایت نہیں کر سکتے۔ جس لیڈر کے خلاف انہوں نے طویل جدوجہد کی، اب اسے ووٹ دینا ان کے لیے ناممکن ہے۔جنوبی 24 پرگنہ کی ضلع سی پی ایم کمیٹی نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کیننگ پورب کے آئی ایس ایف امیدوار کا بائیکاٹ کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علی مڈدین (پارٹی ہیڈکوارٹر) فوری طور پر وہاں سے سی پی ایم کے کسی امیدوار کا اعلان کرے۔نہ صرف سی پی ایم، بلکہ بائیں بازو کے دیگر اتحادی بھی کیننگ پورب میں آئی ایس ایف امیدوار کی حمایت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
آئی ایس ایف کی جانب سے کچھ نشستوں پر یکطرفہ امیدواروں کے اعلان سے بائیں بازو کا محاذ سخت ناراض ہے۔ سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "کچھ ایسی نشستیں ہیں جہاں بائیں بازو کی دیگر جماعتوں کا بھی دعویٰ ہے، یکطرفہ طور پر کچھ نہیں ہوتا۔”


